اسد عمر کا وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کا فیصلہ

اسد عمر کا وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کا فیصلہ

اسلام آباد: ( ترجمان نیوز) اسد عمر نے وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں میں وزارت خزانہ چھوڑ کر وزارت توانائی لے لوں مگر وزارت خزانہ کے بدلے توانائی کا محکمہ نہیں لوں گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا وزیراعظم کی خواہش تھی کہ میں وزارت خزانہ کا قلمدان چھوڑدوں، عمران خان سے کہہ دیا کابینہ میں کوئی عہدہ نہیں لوں گا، میرا یقین ہے کہ پاکستان کیلئے عمران خان امید ہیں، ہم انشااللہ نیاپاکستان بنائیں گے۔ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ کیلئے شوکت ترین، حفیظ پاشا اور سلمان شاہ کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ یاد رہے اسد عمر اپریل 2012ء میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن بنے، پی ٹی آئی رہنما 2013 اور 2018 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے اسد عمر کو ہٹانے کے مثبت نتائج ہوں گے، امید ہے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے باقی وزیروں کو بھی ہٹایا جائے گا، حکومت کو 8 ماہ بعد احساس ہوا کہ ان کی معاشی پالیسیاں غلط ہیں، امید ہے اسد عمر کو ہٹانے سے معاشی صورتحال بہتر ہو گی۔ ادھر ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی پالیسیاں بہت اچھی تھیں تو پھر کیا ہوا، کیوں اسد عمر کو وزرات خزانہ چھوڑنے کا کہا گیا، اسد عمر کا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کی معاشی پالیسیاں ناکام ہیں، اصل مسئلہ اسد عمر نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران خان خود ہیں۔ ترجمان بلاول بھٹو سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے اسد عمر کو ہٹائے جانے کی خبر پر رد عمل دیتے ہوئے کہا قوم کو مبارک ہو پی پی کے مطالبے پر حکومت کی پہلی وکٹ اڑ گئی، عمران خان حکومت کی مزید وکٹیں بھی جلد گر جائیں گی۔ انہوں نے کہا حکومت کی پوری ٹیم 50 اوورز سے بہت پہلے پویلین لوٹ جائے گی، عمران خان نے ملک کو بدترین بحرانوں میں دھکیل دیا ہے، معاشی بحران کے بعد ملک میں گورننس کا بدترین بحران پیدا ہو گیا ہے۔سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا سلیکٹ وزیراعظم سے نہ معیشت چل رہی ہے اور نہ خارجی امور چلا پا رہے ہیں، عمران خان ملک تو کیا اپنی ٹیم اور حکومت ہی نہیں سنبھال پا رہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *