18ویں ترمیم میں تبدیلی اور سیاست میں آنے کا پلان، سابق چیف جسٹس کے اچانک بڑے اعلان پر پاکستانی. . .

18ویں ترمیم میں تبدیلی اور سیاست میں آنے کا پلان، سابق چیف جسٹس کے اچانک بڑے اعلان پر پاکستانی. . .

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ان کا سیاست میں آنے کا کوئی اراداہ نہیں‘ سابق چیف جسٹس ثاقب ںثار کا کہنا تھا کہ اپنے پیاروں سے وعدہ کرتا ہوں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیاست
میں نہ آنے کا اعلان کر دیا ۔وہ تقریب سے خطاب کررہے تھبے۔انکا کہنا تھا کہ میں نے صرف قانون پڑھا ہے۔اپنے پیاروں سے وعدہ کرتا ہوں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم بندکمروں میں کی گئی ‘اس پر پارلیمان میں کبھی بحث نہیں ہوئی. جسٹس(ر) ثاقب نثار نے کراچی میں کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سے پہلے بھی چیف جسٹس کی حیثیت سے متعدد مرتبہ کہہ چکا ہوں کہ میرے کسی قسم کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں اور ساتھ ہی خواہش کا اظہار کیا کہ میری خواہش ہے کہ عوام کو مفت قانونی مدد فراہم کروں.انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر جرائم کو پکڑنے کے لیے قانون کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا، جرم سے ہمیں لڑنا ہوگا لوگوں کے حقوق کی پاسداری اور ملکی ترقی، یہ سب وطن سے محبت سے ہی ہوگی‘جو کچھ بھی ملا وہ اس ملک کی محبت کی وجہ سے ملا ہے ہم بہت دیر تک پاکستان کی محبت سے ناآشنا رہے. دریں اثناءصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم بند کمروں میں تیار کی گئی، اس پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں کی گئی جبکہ اب 18ویں ترمیم میں
آئین کے لحاظ سے بحث و مباحثہ چل رہا ہے.سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں سب سے سپریم ادارہ قانون ہے، قانون کو اپ گریڈ کرنے والے ادارے سے غفلت ہوئی، دنیا بھر میں قوانین کو ترقی دے کر ہی ترقی حاصل کی گئی. انہوں نے کہا کہ ایماندار قیادت سے اللہ نے قوموں کو ترقی دی ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ظلم کا معاشرہ نہیں چل سکتا جبکہ اللہ کے نبی حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبے میں برابری کا سلوک اختیار کرنے کا کہا ہمارے دین سے زیادہ برابری کا قانون کسی اور مذہب میں نہیں، ہمیں عدل کرنے والے قاضی چاہیے ملک کی ترقی کے لیے عدل اہم ستون ہے.انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے محبت کم ہوتی جارہی ہے پاکستان مفت یا کسی کی خیرات میں نہیں ملا ایک ریاست اور ایک ملک کے طور پر اللہ نے اس معاشرے کو نعمت بخشی ہے. سابق چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی مقابلے میں بھارت کے ادارے مضبوط ہیں اور ساتھ ہی سوال کیا کہ کیا ملک میں قانون بنانے پر توجہ دی گئی؟انہوں نے کہا کہ کرپشن سے بچنے کے لیے احتساب کا عمل واضع ہونا چاہیے، عدل کے ساتھ کفالت کرنے والے معاشرے ہی ترقی کرتے ہیں.

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *