قبر کُشائی کی اجازت ہے یا نہیں؟ سعودی عالم نے قبر کُشائی جیسے انتہائی حساس معاملے پر فتویٰ دے دیا

قبر کُشائی کی اجازت ہے یا نہیں؟ سعودی عالم نے قبر کُشائی جیسے انتہائی حساس معاملے پر فتویٰ دے دیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عالم عبداللہ المنیع نے واضح کیا ہے کہ عام حالات میں قبر کُشائی کی اجازت نہیں ہے۔ قبر صرف کسی نجی فائدے یا عوامی مفاد کی خاطر ہی دوبارہ کھُلوائی جا سکتی ہے۔ یہ بات اُنہوں نے ایک سعودی ٹی وی چینل کے فتاویٰ سے متعلق پروگرام میں سوال کے
جواب میں کہی۔ ایک شخص نے اُن سے سوال کیا تھا کہ قبر کُشائی کی اجازت کن حالات میں ہے۔ جس پر اُنہوں نے جواب دیا کہ اگر کسی قتل کیے گئے بندے کو دفنا دیا گیا ہو یا کسی مُردے کے لواحقین یہ شک ظاہر کریں کہ مرنے والے کی موت طبعی نہیں بلکہ قتل یا کسی سازش کا نتیجہ ہے، تو ایسی صورت میں قتل کے اسباب دریافت کرنے خاطر حکومت کی اجازت سے دوبارہ قبر کُشائی ہو سکتی ہے۔ اس میں شرعی لحاظ سے کوئی قباحت نہیں ہے۔صحابی رسولﷺ نے اپنے والد کی قبر کھولی تھی کیونکہ ایک قبر میں دو افراد دفنا دیئے گئے تھے۔اس لیے انہوں نے اپنے والد کی میت قبر سے نکال کر الگ قبر میں نکال لی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عالم عبداللہ المنیع جو سعودی عالم کے ممتاز علماء4 کے بورڈ کے رْکن اور شاہی ایوان کے مشیر بھی ہیں۔ اُنہوں نے اس سے قبل بھی اپنے ایک فتوے میں کہا تھا کہ کسی بھی زندہ کافر کو دوزخی قرار دینا اسلام کی رْو سے جائز نہیں ہے۔ اسی طرح کسی زندہ مسلمان کو جنتی کہنا بھی جائز نہیں۔کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ اللہ
جب چاہتا ہے کسی انتہائی گناہ گار اور کافر کو پل بھر میں ایمان کی حرارت سے نواز دیتا ہے جبکہ کسی بڑے پرہیزگار سے بھی اْس کے آخری وقت میں ایسے کبیرہ گْناہ کروا دیتا ہے جن کے باعث اْس سے جنت کی رحمت دْور ہو جاتی ہے۔اس پروگرام کے دوران کسی نے اُن سے دریافت کیا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کسی زندہ کافر کو اسلام سے دْوری کی بناء4 پر کافر قرار دے یا کسی مسلمان کو اْس کی بدکرداری اور دِینی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کے باعث گمراہ اور دوزخی قرار دے، تو شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔تو اس پر شیخ المنیع نے کہا اللہ کی قسم یہ جائز نہیں۔کسی مسلمان یا کافر کے بارے میں اس طرح کا بیان دیان کسی صورت بھی جائز نہیں۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک انسان اہلِ جنت جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان بالشت بھر فاصلہ نہیں رہ جاتا مگر اس پر نوشتہ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسے کام کرنے لگتا ہے اور اس (دوزخ) میں داخل ہوجاتا ہے جبکہ ایک انسان اہل دوزخ جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ
کے درمیان بالشت بھر فاصلہ رہ جاتا ہے مگر اس پر نوشتہ تقدیر صادق آجاتا ہے اور وہ اہل جنت جیسے کام کرکے جنت میں چلا جاتا ہے۔اس لیے ہمیں خْدائی اختیار کے معاملات میں دخل دے کر خود کو گناہ گار نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ جب چاہے کسی کی کْفر یا ایمان کی حالت بدل دے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *