سیلفی لینے کے شوق مہنگا پڑا، ایک سیلفی نے جیل پہنچا دیا

سیلفی لینے کے شوق مہنگا پڑا، ایک سیلفی نے جیل پہنچا دیا

کراچی(ویب مانیٹرنگ ڈیسک) :آج کل شائید ہی کوئی موبائل استعمال کرنے والا ہو گا جس نے کبھی سیلفی نہ لی ہو. لیکن کچھ لوگوں کو سیلفی لینے کا جنون کی حد تک شوق ہوتا ہے. کراچی میں سیلفی سے متعلق ہی ایک دلچسپ واقع رونما ہوا. سیلفی لینے کا شوق جیل میں لے گیا۔چوروں نے چوری شدہ موبائل فون سے سیلفی اتاری تو

وہ متاثرہ خاتون کے گوگل اکاونٹ پر اپلوڈ ہو گئیں۔پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق خودنمائی کا شوق ہر کسی میں موجود ہوتا ہے اور وہ اس اس ذوق کی تسکین کے لیے مختلف طریقوں سے استفادہ کرتا ہے ۔ایساہی ایک طریقہ سیلفیاں لے کر ان کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا ہے ۔سیلفی لینا نوجوانوں میں خاصا مقبول ہے لیکن بسا اوقات نوجوان خطرناک سیلفی لینے کے چکر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔سیلفی لیتے ہوئے موت کا شکار ہونے والوں میں بھارت سر فہرست ہے تین سالوں میں بھارت کے 76نوجوان ہے سیلفی لیتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے گئے جبکہ پاکستان اس حوالے سے دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

2014سے اب تک 9پاکستانی نوجوان سیلفی لینے کے چکر میں اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں ۔سیلفی لینے سے انسان موت کے منہ میں جا سکتا ہے لیکن یہ سلیفی کسی کو جیل میں بھی پہنچا سکتا ہے شائد ایسا سننا ہر کسی کے لیے حیران کن ہوگا۔جی یہ واقعہ کراچی میں پیش آیا۔ جہاں ایک سلیفی نے 2 اسٹریٹ کرمنلز کو جیل میں پہننچا دیا۔ڈی ایچ اے کراچی کے بدر کمرشل ایریا میں موجود خاتون ارم الطاف کو اس وقت سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب 2 سٹریٹ کرمنلز نے ان کے موبائل فون کو انہی سے چھین لیا۔

یہ واقعہ 27 دسمبر کو پیش آیا۔موبائل چھیننے کے بعد یہ دونوں اپنے علاقے میں چلے گئے جہاں انہوں نے اسی موبائل فون سے سیلفی اتاری جو ارم الطاف کے گوگل اکاونٹ پر اپلوڈ ہو گئی۔دوسری جانب ارم الطاف نے اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد اپنے گوگل فوٹوز اکاونٹ کو لاگ ان کیا تو انہیں اسٹریٹ کرمنلز کی جانب سے لی گئی سیلفی نظر آگئی ۔جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اس حوالے سے آگاہ کیا ۔جس پر درخشاں پولیس اسٹیشن کی پولیس نے نادرا کی مدد سے ان ملزمان کو شناخت کیا اور انکو گرفتار کر لیا۔یہ دونوں کرمنلز اس وقت جیل میں موجود ہیں اور سیلفی لینے کے شوق نے ان دونوں کو جیل پہنچا دیا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *