کس مشہور شخصیت، ملزم کے بیٹے کودورانِ سماعت، عدالتی آداب ملحوظ ِخاطر نہ رکھنے پر روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

کس مشہور شخصیت، ملزم کے بیٹے کودورانِ سماعت، عدالتی آداب ملحوظ ِخاطر نہ رکھنے پر روسٹرم سے ہٹا دیا گیا

لاہور(ترجمان ویب مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس جناب ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نےطیفی بٹ کی طرف سے شہری کی جائیداد پر مبینہ قبضہ کے ازخود نوٹس کیس میں متعلقہ اراضی عدالتی قبضہ میں لے کر پولیس کو اسے سیل کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نےجائیداد کی دستاویزات کے فرانزک معائنے کا حکم دیتے ہوئے اس بابت 11جنوری تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عدالت کے حکم پر طیفی بٹ اورمتعلقہ افراد عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو زور زبردستی سے قبضہ نہیں کرنے دیں گے، قانون سب کے لئے برابر ہے ،طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون کا وقت گزر گیاہے ،چیف جسٹس نے دوران سماعت بولنے پر طیفی بٹ کے ساتھ آئے شہری کو کمرہ عدالت سے نکال دیا،فاضل جج نے ایک موقع پر طیفی بٹ کے بیٹے کی سرزنش کرکے انہیں خاموش بیٹھنے کا حکم بھی دیا،چیف جسٹس نے کہا طیفی بٹ ان کا قبضہ واپس کر دیں ،طیفی بٹ نے جواب دیا جی میرے قبضے میں ان کی کوئی جائیداد نہیں ۔درخواست گزار شہری حمیرا بٹ نے موقف اختیار کیا کہ اس سے قبل طیفی بٹ کے بیٹے نے 2012ء میں زبردستی اس جگہ پر قبضہ کرلیاتھا،جو پولیس نے چھڑوایا اور ایف آئی آر بھی درج ہوئی ،اب 2017ء میں ان لوگوں نے دوبارہ قبضہ کرلیاہے اور ہماری کوئی نہیں سن رہا،سی سی پی او کو درخواست دی جنہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی اور ہمیں رپورٹ سے آگاہ نہیں کیاگیا۔ایس ایچ او تھانہ مستی گیٹ رانا امجد قبضہ مافیا کے ساتھ ملاہواہے۔ اس سے قبل چیف جسٹس نے طیفی بٹ کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ طیفی بٹ کو پیش کریں یہاں کوئی بدمعاشی نہیں چلے گی۔

ایس پی سٹی معاذ ظفر نے بتایا کہ طیفی بٹ نے اندرون شہر 3 کنال اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے، طیفی بٹ نے حمیرابٹ پر بہت ظلم کیا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ سوئے ہیں؟طیفی بٹ کو کیوں نہیں پکڑا ۔پولیس کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ یہ بات طے شدہ ہے کہ2017ء تک اس اراضی تک درخواست گزار کا قبضہ تھا ،چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے زمین کس کے نام پر ہے ،ایس پی کی طرف سے کہا گیا کہ کاغذات سے طیفی بٹ اور درخواست گزار کی ملکیت واضح نہیں،دونوں فریق اپنے حق میں دستاویزات پیش کررہے ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا دستاویزات کا فرانزک سائنس ایجنسی سے فرانزک کرا لیتے ہے۔عدالت نے ایجنسی کے سربراہ کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیاہے۔ایک موقع پر طیفی بٹ کے بیٹے نے عدالتی ریمارکس پر سرہلایا تو چیف جسٹس نے عدالتی آداب کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے پر طیفی بٹ کے بیٹے کی سخت سرزنش کی اور اسے فوری طور پر روسٹرم سے ہٹا دیا،چیف جسٹس نے طیفی بٹ سے کہا کہ آپ کا اصل نام کیا ہے ؟طیفی بٹ نے کہامیرانام تعریف بٹ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کیا یہ نام والدہ نے رکھا ہے یا لوگوں نے،طیفی بٹ نے کہا یہ نام لوگوں نے رکھا ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ والدہ آپ کو کیا کہہ کر بلاتی تھیں،طیفی بٹ نے کہا وہ بھی طیفی ہی کہتی تھیں،چیف جسٹس نے ریمار کس دیئے پاکستان میں کسی کے قبضے نہیں چلیں گے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *